{"product_id":"afkar-e-faqeer","title":"AFKAR-E-FAQEER","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan\u003eسرفراز احمد شاہ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e12 جون 1944ء کو جالندھر کے ایک نجیب الطرفین سیّد گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیشنل ہیں۔ مختلف سرکاری اداروں میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ کچھ عرصہ برمنگھم یونیورسٹی میں مینجمنٹ کے موضوع پر بطور وزٹنگ فیکلٹی لیکچرز بھی دیے۔ مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ آج کل پاکستان کے ایک معروف صنعتی و تجارتی گروپ کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سلسلے میں 65 سے زائد ممالک کا دورہ کرچکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ قدیم و جدید علوم اور عالمی رجحانات پر گہری اور متوازن نظر رکھتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eدنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی و رُوحانی تعلیمات سے اُن کی دیرینہ دلچسپی ہے۔ اپنی گوناگوں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اُن کی صحبت سے لاکھوں لوگ مستفیض ہو چکے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eاللّٰہ تعالیٰ نے سرفراز شاہ صاحب کو توکل، اطمینان اور یقین کی دولت سے بےحساب نوازا ہے جسے وہ اپنے دوستوں میں کھلے دل سے بانٹتے رہتے ہیں۔ اُس ذاتِ اقدس کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُن کے لہجے میں ایسی محبت، جذبہ اور مان ہوتا ہے جو سامعین کے دلوں میں رب تعالیٰ کی محبت، قرب اور دوستی کے حصول کی تڑپ بیدار کردیتا ہے۔ خوش کلام اِتنے کہ دھیمے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جب گُفتگو کرتے ہیں تو گویا وقت کی گردش تھم جاتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسید سرفراز احمد شاہ دورِ حاضر میں پاک و ہند کے اُن معدوے چند دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں جن کا دینی اور دنیاوی علم بیک وقت قابلِ تعریف اور مستند ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— امجد اسلام امجد\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمیری خواہش ہے کہ یہ کتاب وہ لوگ بھی پڑھیں جو تشکیک کا شکار ہیں اور کوئی ضروری نہیں کہ وہ اپنی سوچ کی راہیں بدل لیں، کیونکہ میرے نزدیک تشکیک ہی ایک دن منزل تک لے جانے والی ہوتی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— عطاء الحق قاسمی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eمحترم سید سرفراز اے شاہ کے نزدیک تصوف کا مقصد دُنیا سے کنارہ کشی نہیں بلکہ دُنیا میں رہتے ہوئے باوقار اور باعمل انسان بننا ہے۔ وہ تصوف کو تقدیر پرستی کی بجائے خود احتسابی اور عملی جدوجہد سے جوڑتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— قیوم نظامی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسید سرفراز شاہ صاحب کی مجلس میں موضوع کوئی بھی زیرِبحث ہو، تان ہمیشہ خالق و مالک حقیقی اللہ عزوجل سے بالواسطہ نہیں بلاواسطہ جڑنے، مانگنے اور مانگتے چلے جانے پر ٹوٹتی ہے اور انسان کچھ دیر کے لیے صرف اپنے رب کا ہوکر رہ جاتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ارشاد احمد عارف\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eسائنسی پس منظر اور جدید عقلیات کے پس منظر میں شدید ضرورت تھی کہ تصوف کی داخلی دنیا سے کوئی صاحبِ معرفت صوفی اُٹھے اور اس عظیم علمی میراث کو عام فہم انداز سے نئی نسل تک منتقل کرے۔ ازحد مسرت سے یہ ماننا پڑے گا کہ قبلہ سید سرفراز شاہ صاحب نے یہ کام کمال درجہ عمدگی اور مہارت سے انجام دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— عامر خاکوانی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eانھیں دیکھ کر میں سمجھا کہ یہ شاہ صاحب کے کوئی کارکن ہیں۔ اصل شاہ صاحب ابھی تشریف لائیں گے۔ سفید ریش ہوں گے، لمبا چغا زیب تن ہو گا، انداز معززیت سے بھرپور ہو گا، جیسے مروجہ عالم دین، بزرگ یا پیر فقیر ہوتے ہیں۔ پتا نہیں ایسے کیوں ہوتا ہے کہ علمائے کرام، بزرگ اور پیر صاحبان کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے، جیسے وہ ہم میں سے نہ ہوں، جیسے وہ کوئی مختلف مخلوق ہوں۔ شاہ صاحب کے پاس بیٹھ کر میں نے محسوس کیا جیسے وہ ہم میں سے تھے، جیسے میرے پاس کوئی دوست یا ساتھی بیٹھا تھا۔ اس کے برعکس علمائے دین کا انداز کچھ ایسا ہوتا ہے جسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے نقیب کہہ رہے ہوں۔ ہٹو بچو، باادب، باملاحظہ ہوشیار، عالی جناب، عالم دین قدم رنجا فرما رہے ہیں۔ شاہ صاحب کو دیکھ کر میرا یقین ایمانِ کامل میں بدل گیا اور میں نے محسوس کیا جیسے میں ان کی خدمت میں خود حاضر نہیں ہوا، بلکہ بھیجا گیا ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eشاہ صاحب کا اسمِ گرامی سرفراز اے شاہ ہے، وہ ایک معروف کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے مرشد محترم سید یعقوب علی شاہ ہیں جن کا وصال 13 اگست 1986ء کو ہوا، مزارِ اقدس میانی صاحب لاہور میں واقع ہے۔ ان کا سلسلہ چشتیہ، صابریہ، وارثیہ ہے۔ سید سرفراز شاہ کو خلافت 1984ء میں عطا ہوئی تھی۔ جب سے خدمتِ خلق جاری ہے۔ ہفتے میں ایک دن حاجت مندوں اور سائلوں سے بلاامتیاز اور بلا افتراق و تفریق ملتے ہیں۔ مشورہ دیتے ہیں، دعا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں پیر خانے کا رنگ سراسر مفقود ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e— ممتاز مفتی\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(’’الکھ نگری‘‘ سے ماخوذ)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Kahay Faqeer","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":52246369698023,"sku":null,"price":2500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0796\/9747\/7863\/files\/Afkar-e-faqeerbookimage.jpg?v=1782204390","url":"https:\/\/store.kahayfaqeer.org\/products\/afkar-e-faqeer","provider":"Kahay Faqeer","version":"1.0","type":"link"}